رمضان کا دسواں دن
خدیجہ بنت خوئلید کی وفات کی یاد میں، ان پر خدا کی رحمت ہو۔
اس کی اہمیت.
السلام على مولاتنا خديجة الكبرى أول نساء اسلاماَ والتي
حضرت خدیجہ بنت خویلد (ع)( ذات العام الفيل)(هاتهي والے سال میں پیدا ہوئی اور اسی سال میں رسول خدا بھی(ص) مکہ مکرمہ المکرمہ میں پیدا ہوئے ، جناب خدیجہ محسنہ اسلام شعب ابي طالب کے محاصرے کے بعد بعثت نبوي کے دسویں سال میں انتقال کر گئیں ۔ اورآپ علیھا السلام کو مکہ مکرمہ میں الحجون نامی جگہ میں دفن کیا گیا ۔ جب حضرت خدیجہ (ع) فوت ہوہی ، تو جناب زہرا (ع) نےروتے ہوئے اپنے والد (ص) سے اپنی والدہ کی کے بارے میں دریافت کیا ، تو خدا نے پیغمبر اکرم (ص) پروحی نازل کی کہ خدیجہ اب جناب آسیہء اورجناب مریم کے درمیان جنت میں ہیں۔
رسول (ص) نےخود آپ علیہ السلام کودفن کیا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر میں اتار۔.
کیا آپ ہماری ماں حضرت خدیجہ ع کی فضیلت کو جانتے ہیں؟
آپ علیہ السلام کے فضائل بے شمار ہے جناب خديجہ ان گنت کمالات و فضائل کی حاملہ تھی جن کا ذکر یہاں کرنا ممکن نہ ہو گا مگر پھر بھی آپ کے استفادہ کے ليے ان میں سے کچھ کا ذکر ہو گا جناب خدیجہ وہ مبارک ہستی تھی. جن کے اسلام پر بہت احسانِ ہے آپ نے آپنی ساری زندگی خدا اس کے رسول اور اسلام کے لیے واقف کر دي آپ وفا ایثار اور قربانی کا وہ نمونہ جس کی مثال نہیں ملتی ۔
محدثین نے ذکر کیا کے حضرت خدیجہ علیہ السلام کو دو کفن میں دفن کیا گیا ، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے جو اپ (ص)نے دیا مگر دوسرا کفن جنت سے نازل ہوا روایت میں ذکر کیا گیا کہ جب آپ پر مرض نے شدت اختیار کی تو ام المومنین حضرت خدیجہ علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ میری وصیت سنے جناب رسول خدا سید المرسلین نے آپ کی وصیت کو سنا آپ علیہ السلام
نے فرمایا جو مندرجہ ذیل ہے:
- اگر میں نے آپ کے حق میں کوئی کمی کی ہوں ، توآپ مجھے معاف فرمائیں ، اللہ کے رسول نے کہا ہرگز نہیں میں نے کبھی بھی کوئی بھی ایسی بات نہ دیکھی بلکہ آپ کا جذبہ آثار و قربانی میرا اور میرے گھروالوں کےلیے قابلِ ستائش ہے ۔ اورآپ کا اپنا سارا مال و دولت کواللہ اور اسکے رسول کی راہ میں خرچ کرنا کسی تعارف کا محتاج نہیں
میں آپ کی طرف اس کی سفارش کرتی ہوں - اور آپ نے حضرت فاطمہ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا - کیونکہ وہ میرے بعد ایک عجیب یتیمہ ہے ، لہذا قریش کی عورتوں میں سے کوئی بھی اسے تکلیف نہیں پہنچائے ، اور کوئی بھی آپ کے رخسار مبارک پر تماچہ ، یا اس کا چہرہ متزلزل نہ ہونے دےاورکوہی اسے نفرت سے نہیں دیکھیں۔
: تیسری : میں قبر سے خوف ذادہ ہوں ، اور میں چاہتی ہوں کہ جب وقت نزاہ ہوں تو آپ مجھے آپنی
اس چادر میں دفن کرے جو آپ کے دوش مبارک پر ہے۔ رسول اللہ کھڑے ہوئے اور وہ چادر آپ پر ڈال دی جو آپ نے اوڑھی ہوئی تھے ۔ اس سے جناب خدیجہ بہت زیادہ خوش ہو گی اور جب آپ فوت ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے خود آپکی تجھز کی۔ جب آپ نے ارادہ کیا کہ جناب خدیجہ کو کفن دفن کرے توحضرت جبرئیل (ع) نازل ہوئے اور فرمایا يا رسول اللہ خدا نے آپ پر درود سلام بھیجا اور اپ سے فرمایا ہے کا اے محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ خدیجہ کا کفن ہماری طرف سے ہے بے شک اس بی بی نے اپنا سارا مال راہ خدا میں خرچ کیا ۔
پس جبریل آے اور کہا اے محمد يہ کفن جناب خدیجہ کا ہے اور یہ کفن جنت کے کفون میں سے ہے یہ خدا کی طرف سے جناب خدیجہ کے لیے تحفہ ہے ۔
لہذا رسول خدا نےاپ کو دو کفن دے ایک اپنی عباء مبارکہ کا اور دوسرا کفن جو جنت سے آیا تھا
فكان لها كفينن كفن من الرسول و كفن من الله
اپ کے لے دو کفن تھے کفن رسول اللہ کی طرف سے اور دوسرا خدا کی طرف سے
((نقله البغدادي عن شجرة طوبى للمازندراني))
قال رسول الله صلي الله عليه و اله و سلم ( ما أ بدلي الله خيرا من خديجة )
لدت السيدة خديجة (ع) في عام الفيل في ذات السنة التي ولد فيها رسول الله ,(ص) في مكة المكرمة ، وتوفيت في ،
السنة العاشرة من البعثة ، قبل الهجرة بثلاث سنين بعد الخروج من حصار شعب ابي طالب ، ودفنت بمنطقة الحجون في مكة المكرم لما توفيت السيدة خديجة (ع) اخذت الزهراء (ع) بالبكاء و اصبحت تسأل ابيها (ص) عن مكان أمها ، فأوحى الله الى النبي (ص) ان خديجة الآن في الجنة بين آسية و مريم (ع) و تولى رسول( ص)) .
بنفسه دفنها و أنزلها الى القبر بيده المقدسة ، و في ذلك من المكرمات ما لا يخفى..
هل تعلمون فضل أمنا خديجة عليها السلام..!؟
كفنت أم المؤمنين السيدة خديجة الكبرى عليها السلام بكفنين واحد من الجنة والآخر من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: وذلك أنه لمّا اشتدّ مرضها قالت: «يا رسول الله اسمع وصاياي):
أوّلاً: إنّي قاصرة في حقّك فاعفني يا رسول الله. قال صلى الله عليه وآله: حاشا وكلّا، ما رأيت منكِ تقصيراً، فقد بلغتِ بجهدك، وتعبت في داري غاية التعب، ولقد بذلت أموالكِ وصرفت في سبيل الله مالَكِ..
ثانياً: أوصيك بهذه ـ وأشارت إلى فاطمة ـ فإنّها يتيمة غريبة من بعدي، فلا يؤذينها أحد من نساء قريش، ولا يلطمنّ خدّها، ولا يصحن في وجهها، ولا يرينّها مكروهاً.
ثالثاً: إنّي خائفة من القبر، أُريد منك رداءك الذي تلبسه حين نزول الوحي تكفّنني فيه فقام النبي صلى الله عليه.
وسلّم الرداء إليها، فسرّت به سروراً عظيماً، فلمّا تُوفّيت خديجة أخذ رسول الله(صلى الله عليه وآله) في تجهيزها وغسّلها ، فلمّا أراد أن يكفّنها هبط الأمين جبرائيل وقال: يا رسول الله، إنّ الله يقرئك السلام ويخصّك بالتحية والإكرام ويقول لك: يا محمّد إنّ كفن خديجة من عندنا، فإنّها بذلت مالها في سبيلنا.
فجاء جبرائيل عليه السلام بكفن وقال: يا رسول الله! هذا كفن خديجة، وهو من أكفان الجنّة أهداه الله إليها. فكفّنها رسول الله(صلى الله عليه وآله) بردائه الشريف أوّلاً، وبما جاء به جبرائيل ثانياً، فكان لها كفنين: كفن من الله، وكفن من رسوله» .
📚 نقله البغدادي عن شجرة طوبى للمازندراني الحائري
وكانت أحب نساء النبي إليه ولها شرف قوله صلى اللَّه عليه وآله
(ما أبدلي اللَّه خيرا من خديجة) :
اليوم العاشر من شهر رمضان
ذكرى وفاة أم المؤمنين خديجة بنت خويلد سلام الله عليها فعظم الله أجر رسولنا بها وعظم اللَّه اجوركم
سماحة السيدالمسكي.









0 Comments